اسلام آباد: پاکستان کی ایک عدالت نے ایون فیلڈ بدعنوانی معاملے میں برخواست وزیراعظم نواز شریف کو قصور وار ٹھہرایا ہے اور 10 سال کی سزا سنائی ہے، جس کے بعد نواز شریف کے بھائی شہباز شریف نے پریس کانفرنس میں کہا "ہم لوگ سبھی قانونی اور آئینی متبادل کے ذریعہ انصاف کی لڑائی لڑیں گے"۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے ہمارے سبھی امیدوار اپنی انتخابی تشہیر کے دوران ہمارے ساتھ ہوئے ناانصافی کا معاملہ اٹھائیں گے۔ وہ ہماری مایوسی کو اجاگر کرنے کے لئے انتخابی اسٹیج کا استعمال کریں گے۔
انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ سبھی قانونی اورآئینی متبادل کے ذریعہ انصاف کی لڑائی لڑیں گے۔ نواز شریف نے ہمیشہ بہادری سے لڑائی لڑی ہے۔ شہباز نے نواز شریف کی مدت کار کا ذکر کرتے ہوئے کہا "نواز نے خدا کی مدد سے بجلی کی پریشانی کو ختم کرکے تاریکی کو دور کیا۔ سی پیڈ دیا، دائمر - باشا باندھ سلک روٹ، جس سے لاکھوں لوگوں کو روزگار ملے گا، نواز شریف کی دین ہے، جس سے یہ ملک ترقی کرے گا"۔
انہوں نے کہا کہ اب ہمیں انتظار 25 جولائی کے سورج طلوع ہونے کا ہے، جب الیکشن ہوں گے، شام میں پاکستان عام انتخابات کے نتائج آئیں گے۔ اگر خدا نے چاہا تو سب کو پتہ چلے گا کہ نواز کی لیڈر شپ نے پاکستان کی خدمت کی ہے۔ ہم اپنی انتخابی تشہیر میں اس بات کو سب کے سامنے رکھیں گے کہ قانون سب کے لئے ایک سا ہونا چاہئے۔ امیر وغریب سب کے لئے قانون ایک جیسا ہونا چاہئے۔
شہباز نے کہا کہ اس فیصلے کا وقت صحیح نہیں ہے۔ الیکشن سے تقریباً دو ہفتے قبل آئے اس فیصلے کا اثر انتخابی جیت پر ہوسکتا ہے۔ نواز کی بیوی زندگی اور موت کی لڑائی لڑ رہی ہیں، لیکن یہ فیصلہ لیتے وقت اس بات کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔
واضح رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس بدعنوانی معاملے میں نواز شریف کو پاکستانی عدالت نے 10 سال کی سزا سنائی ہے جبکہ ان کی بیٹی مریم شریف کو سات سال کی سزا سنائی گئی ہے۔ کورٹ نے ایون فیلڈ بد عنوانی کے معاملے میں نواز شریف پر تقریباً 73 کروڑ روپئے اور مریم پر 18 کروڑ روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ یہی نہیں کورٹ نے نواز شریف کے دونوں بیٹوں حسین اور حسن کو بھگوڑا قرار دیا ہے۔ ان کے خلاف عمر قید وارنٹ جاری کیا گیا ہے۔
اس سے قبل پاکستان کے برخواست وزیراعظم کو جواب دہی عدالت سے بڑا جھٹکا لگا تھا۔ عدالت نے ان کی اس عرضی کو مسترد کردی تھی، جس میں انہوں نے اپنے خلاف بدعنوانی کے 4 معاملوں میں سے ایک میں فیصلہ ایک ہفتے تاخیر سے سنانے کی اپیل کی تھی۔
(اے این آئی ان پٹ کےساتھ)

No comments:
Post a Comment