Sunday, September 30, 2018
Wednesday, September 26, 2018
Sunday, September 23, 2018
Wednesday, September 19, 2018
گوگل اور فیس بک آپ کے متعلق کیا جانتے ہیں؟
گوگل اور فیس بک آپ کے متعلق کیا جانتے ہیں؟
کیلی فورنیا: دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل اور سماجی رابطے کی مشہور ترین ویب سائٹ فیس بک کی جانب سے صارفین کا ڈیٹا محفوظ رکھنے کے حوالے سے اہم معلومات سامنے آگئیں۔ فیس بک کے ڈیٹا چوری کے اب تک کے سب سے بڑے اسکینڈل کے بعد سے صارفین کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے تحفظات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں متعدد نامور شخصیات کی جانب سے فیس بک سے اپنے اکاؤںٹس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے اعلانات سامنے آرہے ہیں جس کے بعد فیس بک انتظامیہ نے پرائیویسی سیٹنگز کو مزید سخت کرنے اور صارفین کےلیے آسانیاں پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سماجی رابطے کی جانب سے پرائیویسی سیٹنگز کو مزید سخت کرنے کے باوجود آپ کا ڈیٹا کتنا محفوظ ہے؟ ہم آپ کو بتائیں گے کہ فیس بک اور گوگل اپنے صارفین کے بارے میں کتنا کچھ جانتے ہیں اور تمام تر سیکیورٹی کے باوجود کون سا ڈیٹا چھپایا جاسکتا ہے جب کہ ہم یہ بھی دیکھیں گے یہ دو بڑے نیٹ ورک کس طرح صارفین کا ڈیٹا اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں۔ گوگل اور فیس بک اسمارٹ فون رکھنے والے صارف کی ان تمام معلومات اور کاموں سے واقف رہتے ہیں جو صارف آن لائن یا آف لائن رہتے ہوئے اپنے موبائل سے انجام دیتا ہے، یہاں تک کہ صارف اپنے موبائل سے ڈیٹا ڈیلیٹ بھی کرلے لیکن گوگل اسے اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کی بات کریں تو وہ اپنے صارفین کی لوکیشن محفوظ رکھتا ہے (اگر لوکیشن آن ہو) اس کے ذریعے آپ کے اسمارٹ فون استعمال کرنے کے پہلے دن سے لے کر اب تک کی لوکیشن حاصل کی جاسکتی ہیں۔ چونکہ ایک اسمارٹ فون (اینڈروئیڈ) رکھنے والے صارف کےلیے لازمی ہے کہ اس کا گوگل اکاؤنٹ ہو اور اسی کے ذریعے وہ اپنی تمام تر ڈیوائسز استعمال کرتا ہے لیکن وہ اس بات سے بالکل بے خبر ہے کہ گوگل صارف کی جانب سے تمام ڈیوائسز پر سرچ کیا جانے والا مواد ایک الگ جگہ محفوظ رکھتا ہے اور صارف کی جانب سے موبائل، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر سے سرچ ہسٹری ڈیلیٹ کرنے کے بعد بھی وہ سرچ ہسٹری گوگل کے پاس محفوظ رہتی ہے اور یہ تمام ڈیوائسز سے ایک ساتھ مکمل طور پر ڈیلیٹ کرنا ہوگی۔ گوگل اپنے صارف کی فراہم کردہ معلومات سے متعلق ایک فرضی پروفائل بھی بناتا ہے جس میں صنف، عمر، جگہ، دلچسپی، رشتے کی حیثیت وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ گوگل صارف کی جانب سے استعمال کردہ تمام ایپلی کیشنز کا ڈیٹا بھی محفوظ رکھتا ہے کہ وہ انہیں کب، کہاں، کس سے رابطہ کرنے کےلیے استعمال کرتا ہے اور اس دوران کیا باتیں کی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ گوگل آپ کے سونے کی اوقات سے متعلق بھی آگاہ رہتا ہے۔ صارفین کی جانب سے لی گئی تصاویر، ویڈیوز، یا کوئی بھی محفوظ کردہ ڈاکیومنٹس گوگل کی آنکھ سے نہیں بچ سکتیں اور یہ تمام ڈیٹا صارف کی جانب سے ڈیلیٹ کرنے کے بعد بھی گوگل کے پاس محفوظ رہتا ہے جو وہ بوقت ضرورت آپ کو فراہم بھی کرسکتا ہے۔ گوگل اپنے صارفین کو محفوظ کیا گیا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنے کا بھی آپشن دیتا ہے جو کہ ڈاکیومنٹس کی صورت میں ہوگا جب کہ فیس بک بھی صارفین کو ڈیٹا محفوظ کرنے کا ایسا ہی آپشن دیتی ہے۔ گوگل یا فیس بک کی جانب سے محفوظ کی جانے والی فائل میں وہ تمام پیغامات، مواد، تصاویر، آڈیو پیغام اور رابطہ نمبر ہوتے ہیں جو صارف کی جانب سے بھیجے یا موصول کیے گئے ہوں۔ فیس بک کی جانب سے صارفین کا وہ ڈیٹا بھی محفوظ رکھا جاتا ہے جو خود ویب سائٹ کو لگتا ہے کہ یہ صارف کےلیے دلچسپی کا باعث ہوگا اور وہ تمام مواد بھی جو صارف کی جانب سے لائک، کمنٹس یا شیئر کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ صارف کی جانب سے بھیجی گئی ایموجی بھی فیس بک کی محفوظ فائل کا حصہ ہوتی ہے۔ فیس بک صارفین کی جانب سے لاگ ان اور آؤٹ کا تمام ڈیٹا بھی محفوظ رکھا جاتا ہے جس میں مقام، اوقات اور ڈیوائسز بھی شامل ہوتے ہیں کہ وہ کب اور کس ڈیوائسز سے لاگ ان ہوا۔ فیس بک صارفین کی جانب سے کسی پیچ کو لائک کرنا، گیم کھیلنا، میوزک سننا، سرچنگ کرنا، پیغامات بھیجنا، کسی سے چیٹ کرنا، آڈیو پیغام دینا اور ویب سائٹ میں رہتے ہوئے تمام تر اقدامات پر کڑی نظر رکھتا ہے اور اسے اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔
کیلی فورنیا: دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل اور سماجی رابطے کی مشہور ترین ویب سائٹ فیس بک کی جانب سے صارفین کا ڈیٹا محفوظ رکھنے کے حوالے سے اہم معلومات سامنے آگئیں۔ فیس بک کے ڈیٹا چوری کے اب تک کے سب سے بڑے اسکینڈل کے بعد سے صارفین کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے تحفظات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں متعدد نامور شخصیات کی جانب سے فیس بک سے اپنے اکاؤںٹس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے اعلانات سامنے آرہے ہیں جس کے بعد فیس بک انتظامیہ نے پرائیویسی سیٹنگز کو مزید سخت کرنے اور صارفین کےلیے آسانیاں پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سماجی رابطے کی جانب سے پرائیویسی سیٹنگز کو مزید سخت کرنے کے باوجود آپ کا ڈیٹا کتنا محفوظ ہے؟ ہم آپ کو بتائیں گے کہ فیس بک اور گوگل اپنے صارفین کے بارے میں کتنا کچھ جانتے ہیں اور تمام تر سیکیورٹی کے باوجود کون سا ڈیٹا چھپایا جاسکتا ہے جب کہ ہم یہ بھی دیکھیں گے یہ دو بڑے نیٹ ورک کس طرح صارفین کا ڈیٹا اپنے پاس محفوظ رکھتے ہیں۔ گوگل اور فیس بک اسمارٹ فون رکھنے والے صارف کی ان تمام معلومات اور کاموں سے واقف رہتے ہیں جو صارف آن لائن یا آف لائن رہتے ہوئے اپنے موبائل سے انجام دیتا ہے، یہاں تک کہ صارف اپنے موبائل سے ڈیٹا ڈیلیٹ بھی کرلے لیکن گوگل اسے اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کی بات کریں تو وہ اپنے صارفین کی لوکیشن محفوظ رکھتا ہے (اگر لوکیشن آن ہو) اس کے ذریعے آپ کے اسمارٹ فون استعمال کرنے کے پہلے دن سے لے کر اب تک کی لوکیشن حاصل کی جاسکتی ہیں۔ چونکہ ایک اسمارٹ فون (اینڈروئیڈ) رکھنے والے صارف کےلیے لازمی ہے کہ اس کا گوگل اکاؤنٹ ہو اور اسی کے ذریعے وہ اپنی تمام تر ڈیوائسز استعمال کرتا ہے لیکن وہ اس بات سے بالکل بے خبر ہے کہ گوگل صارف کی جانب سے تمام ڈیوائسز پر سرچ کیا جانے والا مواد ایک الگ جگہ محفوظ رکھتا ہے اور صارف کی جانب سے موبائل، لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر سے سرچ ہسٹری ڈیلیٹ کرنے کے بعد بھی وہ سرچ ہسٹری گوگل کے پاس محفوظ رہتی ہے اور یہ تمام ڈیوائسز سے ایک ساتھ مکمل طور پر ڈیلیٹ کرنا ہوگی۔ گوگل اپنے صارف کی فراہم کردہ معلومات سے متعلق ایک فرضی پروفائل بھی بناتا ہے جس میں صنف، عمر، جگہ، دلچسپی، رشتے کی حیثیت وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ گوگل صارف کی جانب سے استعمال کردہ تمام ایپلی کیشنز کا ڈیٹا بھی محفوظ رکھتا ہے کہ وہ انہیں کب، کہاں، کس سے رابطہ کرنے کےلیے استعمال کرتا ہے اور اس دوران کیا باتیں کی جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ گوگل آپ کے سونے کی اوقات سے متعلق بھی آگاہ رہتا ہے۔ صارفین کی جانب سے لی گئی تصاویر، ویڈیوز، یا کوئی بھی محفوظ کردہ ڈاکیومنٹس گوگل کی آنکھ سے نہیں بچ سکتیں اور یہ تمام ڈیٹا صارف کی جانب سے ڈیلیٹ کرنے کے بعد بھی گوگل کے پاس محفوظ رہتا ہے جو وہ بوقت ضرورت آپ کو فراہم بھی کرسکتا ہے۔ گوگل اپنے صارفین کو محفوظ کیا گیا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کرنے کا بھی آپشن دیتا ہے جو کہ ڈاکیومنٹس کی صورت میں ہوگا جب کہ فیس بک بھی صارفین کو ڈیٹا محفوظ کرنے کا ایسا ہی آپشن دیتی ہے۔ گوگل یا فیس بک کی جانب سے محفوظ کی جانے والی فائل میں وہ تمام پیغامات، مواد، تصاویر، آڈیو پیغام اور رابطہ نمبر ہوتے ہیں جو صارف کی جانب سے بھیجے یا موصول کیے گئے ہوں۔ فیس بک کی جانب سے صارفین کا وہ ڈیٹا بھی محفوظ رکھا جاتا ہے جو خود ویب سائٹ کو لگتا ہے کہ یہ صارف کےلیے دلچسپی کا باعث ہوگا اور وہ تمام مواد بھی جو صارف کی جانب سے لائک، کمنٹس یا شیئر کیا گیا ہو۔ یہاں تک کہ صارف کی جانب سے بھیجی گئی ایموجی بھی فیس بک کی محفوظ فائل کا حصہ ہوتی ہے۔ فیس بک صارفین کی جانب سے لاگ ان اور آؤٹ کا تمام ڈیٹا بھی محفوظ رکھا جاتا ہے جس میں مقام، اوقات اور ڈیوائسز بھی شامل ہوتے ہیں کہ وہ کب اور کس ڈیوائسز سے لاگ ان ہوا۔ فیس بک صارفین کی جانب سے کسی پیچ کو لائک کرنا، گیم کھیلنا، میوزک سننا، سرچنگ کرنا، پیغامات بھیجنا، کسی سے چیٹ کرنا، آڈیو پیغام دینا اور ویب سائٹ میں رہتے ہوئے تمام تر اقدامات پر کڑی نظر رکھتا ہے اور اسے اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔
Monday, September 17, 2018
Sunday, September 16, 2018
’فحش اداکارہ میا خلیفہ نے ڈیم فنڈ میں پیسے دینے کا اعلان
’فحش اداکارہ میا خلیفہ نے ڈیم فنڈ میں پیسے دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ۔۔۔‘ ڈیم فنڈ کے اعلان کے بعد انٹرنیٹ پر ایسا کام ہوگیا کہ آپ کی ہنسی نہ رکے گی
dailypakistan.com.pk
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے ڈیم بنانے کے لئے ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا تو عوام نے بھی اُن کی آواز پر لبیک کہا اور ڈیم فنڈ میں دھڑا دھڑ عطیات جمع کروانا شروع کر دئیے۔ اس کے بعد وزیراعظم پاکستان نے بھی اس نیک مقصد کے لئے قوم کو پکارا تو جوش و جذبہ اور بھی بڑھ گیا۔
بلاشبہ اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانی بڑی تعداد میں اس فنڈ کے لئے عطیات جمع کروا رہے ہیں، مگر سوشل میڈیا پر کچھ من گھڑت خبریں بھی چل رہی ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین شاہد خان کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے ڈیم فنڈ کے لئے ایک ارب ڈالر، یعنی ایک کھرب روپے دینے کا اعلان کر دیا ہے، مگر بعد پتا چلا یہ تو محض ایک افواہ تھی۔ بہرحال، اس واقعے کے بعد تو غیر متوقع عطیات کے متعلق بنائے گئے لطیفوں کا تانتا سا بندھ گیا ہے اور ایسے ایسے لوگوں کی جانب سے عطیات کے لطائف بنائے جا رہے ہیں کہ سُن کر عقل حیران رہ جائے۔
ایک ایسی ہی عجیب و غریب مثال مشہور زمانہ فحش اداکارہ میا خلیفہ کے جعلی اکاﺅنٹ سے کی گئی ٹویٹ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ لبنانی نژاد امریکی اداکارہ کے نام سے بنائے گئے اس جعلی اکاﺅنٹ پر سامنے آنے والی ٹویٹ میں لکھا گیا ہے کہ ”میں اپنی ہر ویڈیو کی کمائی سے 30 فیصد دیامر بھاشا ڈیم فنڈ میں دینے کا اعلان کرتی ہوں۔ اگر آپ پاکستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو میری ویڈیوز زیادہ سے زیادہ دیکھں ۔۔“
dailypakistan.com.pk
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان کی جانب سے ڈیم بنانے کے لئے ایک تاریخی قدم اٹھایا گیا تو عوام نے بھی اُن کی آواز پر لبیک کہا اور ڈیم فنڈ میں دھڑا دھڑ عطیات جمع کروانا شروع کر دئیے۔ اس کے بعد وزیراعظم پاکستان نے بھی اس نیک مقصد کے لئے قوم کو پکارا تو جوش و جذبہ اور بھی بڑھ گیا۔
بلاشبہ اندرون و بیرون ملک مقیم پاکستانی بڑی تعداد میں اس فنڈ کے لئے عطیات جمع کروا رہے ہیں، مگر سوشل میڈیا پر کچھ من گھڑت خبریں بھی چل رہی ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین شاہد خان کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے ڈیم فنڈ کے لئے ایک ارب ڈالر، یعنی ایک کھرب روپے دینے کا اعلان کر دیا ہے، مگر بعد پتا چلا یہ تو محض ایک افواہ تھی۔ بہرحال، اس واقعے کے بعد تو غیر متوقع عطیات کے متعلق بنائے گئے لطیفوں کا تانتا سا بندھ گیا ہے اور ایسے ایسے لوگوں کی جانب سے عطیات کے لطائف بنائے جا رہے ہیں کہ سُن کر عقل حیران رہ جائے۔
ایک ایسی ہی عجیب و غریب مثال مشہور زمانہ فحش اداکارہ میا خلیفہ کے جعلی اکاﺅنٹ سے کی گئی ٹویٹ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ لبنانی نژاد امریکی اداکارہ کے نام سے بنائے گئے اس جعلی اکاﺅنٹ پر سامنے آنے والی ٹویٹ میں لکھا گیا ہے کہ ”میں اپنی ہر ویڈیو کی کمائی سے 30 فیصد دیامر بھاشا ڈیم فنڈ میں دینے کا اعلان کرتی ہوں۔ اگر آپ پاکستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو میری ویڈیوز زیادہ سے زیادہ دیکھں ۔۔“
Friday, September 14, 2018
Thursday, September 13, 2018
Wednesday, September 12, 2018
اداکار دلیپ کمار کی طبیعت ناساز، ہسپتال منتقل
اداکار دلیپ کمار کی طبیعت ناساز، ہسپتال منتقل
aajkal.com.pk
ممبئی: ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر میں دلیپ کمار کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ صاحب کو ممبئی کے لیلاواتی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، وہ چیسٹ انفیکشن کے باعث تکلیف محسوس کررہے تھے۔
دعاؤں کی درخواست کے ساتھ ساتھ پیغام میں کہا گیا ہے کہ وہ روبصحت ہیں اور آپ سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ خیال رہے کہ ماضی میں بھی دلیپ کمار کو سانس کی تکلیف کے باعث اکثر ہسپتال منتقل کیا جاتا رہا ہے۔
دلیپ کمار 2 اگست 2017 کو گردے میں تکلیف کے باعث لیلاوتی ہسپتال میں داخل کردیا گیا تھا جہاں طبیعت مزید بگڑنے پر انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں منتقل کیا گیا تاہم جلد ہی صحت یاب ہوگئے تھے اور انہیں ہسپتال سے خارج کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ 2016 میں بھی دلیپ کمار کو سانس لینے میں تکلیف کے باعث ممبئی کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
پشاور میں 11 دسمبر 1922 کو پیدا ہونے والے دلیپ کمار کا اصل نام یوسف خان ہے اور انہوں نے 1944 میں 22 سال کی عمر میں فلمی دنیا میں قدم رکھا۔
aajkal.com.pk
ممبئی: ۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر میں دلیپ کمار کے آفیشل اکاؤنٹ سے جاری پیغام میں کہا گیا کہ صاحب کو ممبئی کے لیلاواتی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، وہ چیسٹ انفیکشن کے باعث تکلیف محسوس کررہے تھے۔
دعاؤں کی درخواست کے ساتھ ساتھ پیغام میں کہا گیا ہے کہ وہ روبصحت ہیں اور آپ سے دعاؤں کی درخواست ہے۔ خیال رہے کہ ماضی میں بھی دلیپ کمار کو سانس کی تکلیف کے باعث اکثر ہسپتال منتقل کیا جاتا رہا ہے۔
دلیپ کمار 2 اگست 2017 کو گردے میں تکلیف کے باعث لیلاوتی ہسپتال میں داخل کردیا گیا تھا جہاں طبیعت مزید بگڑنے پر انہیں انتہائی نگہداشت وارڈ (آئی سی یو) میں منتقل کیا گیا تاہم جلد ہی صحت یاب ہوگئے تھے اور انہیں ہسپتال سے خارج کیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ 2016 میں بھی دلیپ کمار کو سانس لینے میں تکلیف کے باعث ممبئی کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
پشاور میں 11 دسمبر 1922 کو پیدا ہونے والے دلیپ کمار کا اصل نام یوسف خان ہے اور انہوں نے 1944 میں 22 سال کی عمر میں فلمی دنیا میں قدم رکھا۔
Monday, September 3, 2018
پاکستان میں اتوار کی چھٹی ختم ، جمعۃ المبارک کی چھٹی بحال دھماکے دار خبر آگئی
پاکستان میں اتوار کی چھٹی ختم ، جمعۃ المبارک کی چھٹی بحال دھماکے دار خبر آگئی
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) جمعۃ المبارک کی ہفتہ وار چھٹی، یوٹیلیٹی سٹورز کی بندش کے خلاف قرار داد اور توجہ دلاؤ نوٹس اور لواری ٹنل میں آمدورفت کے سلسلہ میں شیڈول کا بہانہ بنا کر مسافروں کی تذلیل کے خلاف قومی اسمبلی میں قرار داد ، توجہ دلاؤ نوٹس اور سوال جمع کرا دیے گئے چترال سےمتحدہ مجلس عمل کے ممبر قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے مؤقف اختیار کر تے ہوئے کہا کہ جمعۃ المبارک سید الایام ہے اس لئے ہفتہ وار چھٹی جمعہ کے دن ہی ہونا چاہئے انہوں نے ایک اور قرار داد کے ذریعہ یہ بھی کہا کہ پاکستان بھر سے یوٹیلیٹی سٹورز بند کرنے سے ایک طرف غریب افراد سستی اشیاء
خورد و نوش کی خریداری سے محروم اور ہزاروں نوجوان بے روزگار ہو ں گے جبکہ موجودہ حکومت کے منشور میں ایک کروڑ نوجوانو ں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے ایک توجہ دلاؤ نوٹس پر لواری ٹنل کے حوالہ سے مولانا چترالی نے وزیر مواصلات سے استفسارکیا ہے کہ لواری ٹنل ہر قسم کے تعمیراتی کام ہو نے کے باوجود اور سابق وزیر اعظم کے ٹنل افتتاح کے بعد مخصوص اوقات میں ٹنل کو بند رکھنے اور مسافروں کی آمدورفت پر پابندی لگانے کا کیا جواز باقی رہتاہے اور ایک اور قرار داد کے ذریعہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق حکومت اردو زبان کے نفاذ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور دفعہ 62 ، 63 کو نہ چھیڑنے کے حوالہ سے توجہ دلاؤ نوٹس بھی جمع کیا گیا ہے ۔
پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) جمعۃ المبارک کی ہفتہ وار چھٹی، یوٹیلیٹی سٹورز کی بندش کے خلاف قرار داد اور توجہ دلاؤ نوٹس اور لواری ٹنل میں آمدورفت کے سلسلہ میں شیڈول کا بہانہ بنا کر مسافروں کی تذلیل کے خلاف قومی اسمبلی میں قرار داد ، توجہ دلاؤ نوٹس اور سوال جمع کرا دیے گئے چترال سےمتحدہ مجلس عمل کے ممبر قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے مؤقف اختیار کر تے ہوئے کہا کہ جمعۃ المبارک سید الایام ہے اس لئے ہفتہ وار چھٹی جمعہ کے دن ہی ہونا چاہئے انہوں نے ایک اور قرار داد کے ذریعہ یہ بھی کہا کہ پاکستان بھر سے یوٹیلیٹی سٹورز بند کرنے سے ایک طرف غریب افراد سستی اشیاء
خورد و نوش کی خریداری سے محروم اور ہزاروں نوجوان بے روزگار ہو ں گے جبکہ موجودہ حکومت کے منشور میں ایک کروڑ نوجوانو ں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے ایک توجہ دلاؤ نوٹس پر لواری ٹنل کے حوالہ سے مولانا چترالی نے وزیر مواصلات سے استفسارکیا ہے کہ لواری ٹنل ہر قسم کے تعمیراتی کام ہو نے کے باوجود اور سابق وزیر اعظم کے ٹنل افتتاح کے بعد مخصوص اوقات میں ٹنل کو بند رکھنے اور مسافروں کی آمدورفت پر پابندی لگانے کا کیا جواز باقی رہتاہے اور ایک اور قرار داد کے ذریعہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے مطابق حکومت اردو زبان کے نفاذ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا گیا ہے اور دفعہ 62 ، 63 کو نہ چھیڑنے کے حوالہ سے توجہ دلاؤ نوٹس بھی جمع کیا گیا ہے ۔
اب علاج کیلئے ہسپتالوں میں آنے کی ضرورت نہیں کیونکہ۔۔۔!!! عمران خان کی حکومت نے شاندار سروس شروع کرنے کا اعلان کردیا javedch.com
اب علاج کیلئے ہسپتالوں میں آنے کی ضرورت نہیں کیونکہ۔۔۔!!! عمران خان کی حکومت نے شاندار سروس شروع کرنے کا اعلان کردیا
javedch.com
لاہور ( آن لائن)وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے محکمے میں روبو کال سروس شروع کرنے کا اعلان کردیا، سروس پنجابی، سرائیکی اور اردو زبان میں شروع کی جائے گی۔سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر صحت پنجاب نے کہا ہے کہ روبو کال سروس کے ذریعے شہریوں کو مفت طبی مشورے فراہم کئے جائیں گے۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ صوبے بھر میں ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو اسپتالوں کی ری ویمپنگ کے اہداف مقررہ وقت میں حاصل کئے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 15 روز کے اندر پنجاب کے اسپتالوں کی ایمرجنسی میں طبی سہولتوں کی فراہمی
یقینی بنائی جائے تاہم اسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین سے بدتمیزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی

javedch.com
لاہور ( آن لائن)وزیر صحت پنجاب ڈاکٹر یاسمین راشد نے محکمے میں روبو کال سروس شروع کرنے کا اعلان کردیا، سروس پنجابی، سرائیکی اور اردو زبان میں شروع کی جائے گی۔سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیر صحت پنجاب نے کہا ہے کہ روبو کال سروس کے ذریعے شہریوں کو مفت طبی مشورے فراہم کئے جائیں گے۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ صوبے بھر میں ڈی ایچ کیو اور ٹی ایچ کیو اسپتالوں کی ری ویمپنگ کے اہداف مقررہ وقت میں حاصل کئے جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ 15 روز کے اندر پنجاب کے اسپتالوں کی ایمرجنسی میں طبی سہولتوں کی فراہمی
یقینی بنائی جائے تاہم اسپتالوں میں مریضوں اور ان کے لواحقین سے بدتمیزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی
سمندر کا پانی اچانک سرخ کیوں ہوگیا؟ آپ بھی جانیئے
سمندر کا پانی اچانک سرخ کیوں ہوگیا؟ آپ بھی جانیئے
abbtakk
ایڈن برگ:(20 اگست 2018) اسکاٹ لینڈ سے 200 کلومیٹر شمال میں واقع جزائر فارو میں وہیل مچھلیوں کے شکار کی تصاویر نے ماحولیات اور تحفظ اور حیوانات کے دفاع کے کارکنان میں ایک بار پھر غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
جزائر فارو ڈنمارک کے تحت ایک خود مختار یورپی ریاست ہے تاہم وہ ڈنمارک یا یورپی یونین کے قوانین کی پابند نہیں، تصاویر میں درجنوں وہیل مچھلیاں اس ساحل سمندر پر پڑی ہوئی نظر آرہی ہیں جہاں ان کو ہلاک کیا گیا اس جگہ کا پانی مچھلیوں کے خون کے سبب سرخ ہوگیا ہے۔وہیل مچھلیوں کا شکار اور قتل 30 جولائی کو خلیج سینڈاویگور میں ہوا جو جزائر فارو میں شامل ایک مغربی جزیرے ویگور پر واقع ہے، شکار یہ کارروائی ان قانونی کارروائیوں کی ہی کڑی ہے جو ہر سال موسم گرما میں ان جزائر میں دیکھنے میں آتی ہے۔جزائر فارو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہیل مچھلیوں کا شکار اس کے شہریوں کی طرز زندگی کا حصہ ہے، یہ کوئی تفریحی عمل نہیں، وہیل مچھلی کا گوشت قومی سطح پر غذائی نظام کا ایک اہم جز تھا اور رہے گا۔
بیان کے مطابق وہیل مچھلیوں کا گوشت مقامی آبادی میں جس کی تعداد پچاس ہزار کے قریب ہے، اس میں تقسیم ہوجاتا ہے اور یہ گوشت فروخت نہیں کیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیے
کروڑوں روپے مالیت کے نوڈلز چوری ہوگئے
Spread the love
AbbTakk News blood Denmark edenberg interesting red sea water whale fish سمندر کا پانی اچانک سرخ کیوں ہوگیا؟ آپ بھی جانیئ
abbtakk

ایڈن برگ:(20 اگست 2018) اسکاٹ لینڈ سے 200 کلومیٹر شمال میں واقع جزائر فارو میں وہیل مچھلیوں کے شکار کی تصاویر نے ماحولیات اور تحفظ اور حیوانات کے دفاع کے کارکنان میں ایک بار پھر غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔
جزائر فارو ڈنمارک کے تحت ایک خود مختار یورپی ریاست ہے تاہم وہ ڈنمارک یا یورپی یونین کے قوانین کی پابند نہیں، تصاویر میں درجنوں وہیل مچھلیاں اس ساحل سمندر پر پڑی ہوئی نظر آرہی ہیں جہاں ان کو ہلاک کیا گیا اس جگہ کا پانی مچھلیوں کے خون کے سبب سرخ ہوگیا ہے۔وہیل مچھلیوں کا شکار اور قتل 30 جولائی کو خلیج سینڈاویگور میں ہوا جو جزائر فارو میں شامل ایک مغربی جزیرے ویگور پر واقع ہے، شکار یہ کارروائی ان قانونی کارروائیوں کی ہی کڑی ہے جو ہر سال موسم گرما میں ان جزائر میں دیکھنے میں آتی ہے۔جزائر فارو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہیل مچھلیوں کا شکار اس کے شہریوں کی طرز زندگی کا حصہ ہے، یہ کوئی تفریحی عمل نہیں، وہیل مچھلی کا گوشت قومی سطح پر غذائی نظام کا ایک اہم جز تھا اور رہے گا۔
بیان کے مطابق وہیل مچھلیوں کا گوشت مقامی آبادی میں جس کی تعداد پچاس ہزار کے قریب ہے، اس میں تقسیم ہوجاتا ہے اور یہ گوشت فروخت نہیں کیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیے
کروڑوں روپے مالیت کے نوڈلز چوری ہوگئے
Spread the love
AbbTakk News blood Denmark edenberg interesting red sea water whale fish سمندر کا پانی اچانک سرخ کیوں ہوگیا؟ آپ بھی جانیئ
Subscribe to:
Posts (Atom)
How i start a small business
For years I have been trying to answer this one question: What do small businesses that achieve sustainable growth do differently than those...
-
سمندر کا پانی اچانک سرخ کیوں ہوگیا؟ آپ بھی جانیئے abbtakk ایڈن برگ:(20 اگست 2018) اسکاٹ لینڈ سے 200 کلومیٹر شمال میں واقع جزائر فارو میں...
-
picture of the day




